تہران،24؍اگست(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا)ایران کے ایک سینیر عسکری عہدیدار نے کہا ہے کہ شام کے شمالی شہر حلب میں روسی فوج کے جنگی طیاروں نے مداخلت ہماری درخواست پر کی تھی جب صدر بشار الاسد اور ان کی وفادار فوج کو زمینی کارروائی کے دوران باغیوں سے لڑائی کے دوران مشکل کا سامنا کرنا پڑا تھا۔غیرملکی خبر رساں اداروں کے مطابق ایران، روس اور اسد رجیم کے درمیان رابطہ کاری کے نگران ایڈ مرل علی شمخانی نے سرکاری ٹیلی ویژن سے بات کرتے ہوئے کہا کہ روسی فوج کی جانب سے حلب میں فضائی کارروائی ایرانی عسکری مشیروں کی طرف سے کی گئی درخواست پرکی تھی۔ایڈمرل شمخانی کا کہنا تھا کہ ایران نے روس کی طاقت کو شام میں باغیوں کے خلاف استعمال کرنے کی کامیاب حکمت اختیار کی ہے۔خیال رہے کہ سولہ اگست کو روس نے تسلیم کیا تھا کہ اس نے شام میں باغیوں کے ٹھکانوں پر حملوں کے لیے ایران کے فوجی اڈے استعمال کیے تھے۔ایران نے بھی ایک بیان میں واضح کیا تھا کہ ملک کے مغرب میں واقع ھمدان کا ایک فوجی اڈہ روسی فوج کے استعمال میں رہا ہے جہاں سے شام میں فضائی حملے کیے جاتے رہے ہیں۔ تاہم علی شمخانی کا کہنا تھا کہ اب روسی طیارے ایران سے جا چکے ہیں مگر ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے ایرانی اڈوں کے شامی باغیوں کے خلاف استعمال روکے جانے کی تردید کی ہے۔